تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 28

فَاَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾
تو اس نے ان سے دل میں خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا مت ڈر ! اور انھوںنے اسے ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دی۔ En
اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا۔ (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ اور ان کو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی
En
پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوفزده ہوگئے انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے۔ اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةًجب ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوْا لَا تَخَفْ انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوْهُ بِغُلٰ٘مٍ عَلِیْمٍ اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔ اس سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأوجسَ منهم خيفةً}: حين رأى أيديهم لا تصلُ إليه، {قالوا لا تخفْ}: وأخبروه بما جاؤوا له، {وبشَّروه بغلام عليم}: وهو إسحاق عليه السلام.