تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَ ﴾”اور“ طرف ﴿ الْاَرْضَمَدَدْنٰهَا﴾”زمین کی“ دیکھیں کہ کیسے ﴿مَدَدْنَہَا﴾”ہم نے اسے کشادہ بنایا ہے؟“حتیٰ کہ ہر حیوان کے لیے سکون و قرار اور اس کے تمام مصالح اور استعداد کو ممکن بنایا، اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا کہ وہ نہ ہلے اور ٹھہری رہے ﴿ وَاَنْۢـبَتْنَافِیْهَامِنْكُ٘لِّزَوْجٍۭبَهِیْجٍ﴾ انسانوں اور جانوروں کی خوراک اور ان کے فائدے کے لیے نباتات کی اصناف میں سے ہر صنف اگائی، جو دیکھنے والوں کو بھلی لگتی اور خوش کرتی ہے اور اس کا نظارہ کرنے والے کی آنکھ ٹھنڈی ہوتی ہے.
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإلى الأرض كيف مَدَدْناها ووسَّعناها حتى أمكن كلَّ حيوانٍ السكونُ فيها والاستقرار والاستعداد لجميع مصالحه، وأرساها بالجبال؛ لتستقرَّ من التَّزلزل والتموُّج. {وأنبَتْنا فيها من كلِّ زوجٍ بهيجٍ}؛ أي: من كل صنفٍ من أصناف النبات التي تسرُّ ناظريها، وتُعْجِب مبصريها، وتُقِرُّ عين رامقيها لأكل بني آدم وأكل بهائمهم ومنافعهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔