تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 7

وَ الۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰہَا وَ اَلۡقَیۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَ اَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ ۙ﴿۷﴾
اور زمین، ہم نے اسے پھیلایا اور اس میں گڑے ہوئے پہاڑ رکھے اور اس میں خوبی والی ہر قسم اگائی۔ En
اور زمین کو (دیکھو اسے) ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دیئے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اُگائیں
En
اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور اس میں ہم نے پہاڑ ڈال دیئے ہیں اور اس میں ہم نے قسم قسم کی خوشنما چیزیں اگا دی ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَ اور طرف ﴿ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا زمین کی دیکھیں کہ کیسے ﴿مَدَدْنَہَا ہم نے اسے کشادہ بنایا ہے؟ حتیٰ کہ ہر حیوان کے لیے سکون و قرار اور اس کے تمام مصالح اور استعداد کو ممکن بنایا، اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا کہ وہ نہ ہلے اور ٹھہری رہے ﴿ وَاَنْۢـبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُ٘لِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ انسانوں اور جانوروں کی خوراک اور ان کے فائدے کے لیے نباتات کی اصناف میں سے ہر صنف اگائی، جو دیکھنے والوں کو بھلی لگتی اور خوش کرتی ہے اور اس کا نظارہ کرنے والے کی آنکھ ٹھنڈی ہوتی ہے.
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإلى الأرض كيف مَدَدْناها ووسَّعناها حتى أمكن كلَّ حيوانٍ السكونُ فيها والاستقرار والاستعداد لجميع مصالحه، وأرساها بالجبال؛ لتستقرَّ من التَّزلزل والتموُّج. {وأنبَتْنا فيها من كلِّ زوجٍ بهيجٍ}؛ أي: من كل صنفٍ من أصناف النبات التي تسرُّ ناظريها، وتُعْجِب مبصريها، وتُقِرُّ عين رامقيها لأكل بني آدم وأكل بهائمهم ومنافعهم.