تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کا حال اور ان کے قابل مذمت افعال کا ذکر کرنے کے بعد، انھیں آیات آفاقیہ میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ان امور پر استدلال کریں جن کے لیے ان کو دلیل بنایا ہے، فرمایا: ﴿ اَفَلَمْیَنْظُ٘رُوْۤااِلَىالسَّمَآءِفَوْقَهُمْ﴾”کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟“ یعنی غور و فکر کی یہ نظر کسی مشقت اور سامانِ سفر باندھنے کی محتاج نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔ وہ دیکھیں ﴿ كَیْفَبَنَیْنٰهَا﴾ کہ ہم نے اسے کیسے ایک گنبد بنایا، جو اپنے کناروں پر برابر اور مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جسے ان ستاروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چلتے چلتے غائب ہو جاتے ہیں، جو ایک افق سے دوسرے افق تک اپنے حسن اور ملاحت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے، تو اس میں کوئی سوراخ دیکھے نہ شگاف اور نہ تجھے اس میں کوئی خلل نظر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اہل زمین کے لیے چھت بنایا ہے اور اس کے اندر ان کے لیے ضروری مصالح ودیعت کیے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذكر تعالى حالة المكذِّبين وما ذمَّهم به؛ دعاهم إلى النَّظر في آياته الأفقيَّة كي يعتبروا ويستدلُّوا بها على ما جُعلت أدلةً عليه، فقال: {أفلمْ ينظُروا إلى السماءِ فوقَهم}؛ أي: لا يحتاجُ ذلك النظرُ إلى كلفةٍ وشدِّ رحل، بل هو في غاية السهولة، فينظرون {كيفَ بَنَيْناها}: قبةً مستويةَ الأرجاء ثابتة البناء مزيَّنةً بالنجوم الخُنَّس والجواري الكُنَّس، التي ضُرِبتْ من الأفُق إلى الأفُق في غاية الحسن والملاحة، لا ترى فيها عيباً ولا فروجاً ولا خلالاً ولا إخلالاً، قد جعلها الله سقفاً لأهل الأرض، وأودع فيها من مصالحهم الضروريَّة ما أودع.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔