تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 27

قَالَ قَرِیۡنُہٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَیۡتُہٗ وَ لٰکِنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۲۷﴾
اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب !میں نے اسے سر کش نہیں بنایا اور لیکن وہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا۔ En
اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا
En
اس کا ہمنشین (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب! میں نے اسے گمراه نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ قَ٘رِیْنُهٗ اس کا شیطان ساتھی اس سے بری ٔالذمہ ہوتے ہوئے اور اس کے گناہ کا اسی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہے گا: ﴿ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا کیونکہ مجھے اس پر کوئی اختیار تھا نہ میرے پاس کوئی دلیل و برہان تھیبلکہ یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا، وہ خود ہی اپنے اختیار سے گمراہ ہو کر حق سے دور ہو گیا۔ جیسا کہ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَ الشَّ٘یْطٰنُ لَمَّا قُ٘ضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ۠ (ابراہیم:14؍22) جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا: بے شک اللہ نے تمھارے ساتھ سچا وعدہ کیا اور میں نے جو وعدہ تمھارے ساتھ کیا، میں نے اس کی خلاف ورزی کی۔ میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں، میں نے تمھیں پکارا اور تم نے میری مان لی۔ پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمھارا فریادرس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال قرينُهُ}: الشيطان متبرِّئاً منه حاملاً عليه إثمه: {ربَّنا ما أطْغَيْتُه}: لأنِّي لم يكن لي عليه سلطانٌ ولا حجةٌ ولا برهانٌ، {ولكن كانَ في ضلالٍ بعيدٍ}: فهو الذي ضلَّ وبَعُدَ عن الحقِّ باختياره؛ كما قال في الآية الأخرى: {وقال الشيطانُ لَمَّا قُضِيَ الأمرُ إن الله وَعَدَكم وَعْدَ الحقِّ ووعدتُكم فأخْلَفْتُكم ... } الآية.