(آیت 27) {قَالَقَرِيْنُهٗرَبَّنَامَاۤاَطْغَيْتُهٗ …:} کافر جب یہ حکم سنے گا تو کہے گا، اے میرے رب! میرا کوئی گناہ نہیں، مجھے تو میرے قرین (ساتھی) نے گمراہ کیا۔ اس کے جواب میں اس کا قرین (ساتھی) کہے گا، اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا، بلکہ یہ خود ہی بہت دور کی گمراہی میں مبتلا تھا، میں نے اس پر کوئی زبردستی نہیں کی۔اگر یہ خود انتہائی گمراہ نہ ہوتا تو میرے کہنے سے کبھی سرکشی اختیار نہ کرتا۔ ”قرین“ سے مراد وہ شیطان بھی ہے جو انسان کے ساتھ رہ کر اسے گمراہ کرتا رہتا ہے اور انسانوں میں سے برے ساتھی بھی جو اسے برائی کا درس دیتے اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں۔ قیامت کے دن جب مجرم یہ بہانہ بنائے گا کہ ان لوگوں نے مجھے گمراہ کیا تو وہ اس سے صاف براء ت کا اظہار کر دیں گے۔ ان گمراہ کرنے والے شیاطین الانس و الجن کے اپنے گمراہ کردہ لوگوں سے بری ہونے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۷)، اعراف، (۳۸، ۳۹)، ابراہیم (۲۱)، سبا (۳۱ تا ۳۳) اور سورۂ ص (۵۵ تا ۶۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 اس لئے اس نے فوراً میری بات مان لی، اگر یہ تیرا مخلص بندہ ہوتا تو میرے بہکاوے میں ہی نہ آتا۔ یہاں قرین سے مراد شیطان ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ اور اس کا ساتھی [33] عرض کرے گا ”ہمارے پروردگار! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا تھا بلکہ یہ خود دور تک گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔
[33] اس ساتھی سے مراد غالباً اس کا وہ شیطان ساتھی ہے جو دنیا میں اس کے ساتھ رہتا تھا یا اس پر مسلط کر دیا گیا تھا۔ وہ بارگاہ الٰہی میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کرے گا کہ مجھ میں ایسی کوئی طاقت نہ تھی کہ میں اسے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت سے سرکش بنا سکتا۔ ہوا صرف یہ تھا کہ میں نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا تو یہ پہلے ہی مجرم ضمیر تھا۔ اس نے فوراً میری آواز پر لبیک کہی۔ میرا وسوسہ گویا اس کے اپنے دل کی آواز تھی۔ لہٰذا وہ گمراہی کے کاموں میں خود ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَقَ٘رِیْنُهٗ ﴾ اس کا شیطان ساتھی اس سے بری ٔالذمہ ہوتے ہوئے اور اس کے گناہ کا اسی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہے گا: ﴿ رَبَّنَامَاۤاَطْغَیْتُهٗ ﴾”اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا“ کیونکہ مجھے اس پر کوئی اختیار تھا نہ میرے پاس کوئی دلیل و برہان تھی”بلکہ یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا، وہ خود ہی اپنے اختیار سے گمراہ ہو کر حق سے دور ہو گیا۔ جیسا کہ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَالشَّ٘یْطٰنُلَمَّاقُ٘ضِیَالْاَمْرُاِنَّاللّٰهَوَعَدَكُمْوَعْدَالْحَقِّوَوَعَدْتُّكُمْفَاَخْلَفْتُكُمْ۠ ﴾ (ابراہیم:14؍22) ”جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا: بے شک اللہ نے تمھارے ساتھ سچا وعدہ کیا اور میں نے جو وعدہ تمھارے ساتھ کیا، میں نے اس کی خلاف ورزی کی۔ میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں، میں نے تمھیں پکارا اور تم نے میری مان لی۔ پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمھارا فریادرس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال قرينُهُ}: الشيطان متبرِّئاً منه حاملاً عليه إثمه: {ربَّنا ما أطْغَيْتُه}: لأنِّي لم يكن لي عليه سلطانٌ ولا حجةٌ ولا برهانٌ، {ولكن كانَ في ضلالٍ بعيدٍ}: فهو الذي ضلَّ وبَعُدَ عن الحقِّ باختياره؛ كما قال في الآية الأخرى: {وقال الشيطانُ لَمَّا قُضِيَ الأمرُ إن الله وَعَدَكم وَعْدَ الحقِّ ووعدتُكم فأخْلَفْتُكم ... } الآية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔