تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 12

کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ اَصۡحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ۱۲﴾
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور کنویں والوں نے اور ثمود نے۔ En
ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں
En
ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں نے اور ﺛمود نے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے بھی اپنے انبیائے عظام اور مرسلین کرام کو جھٹلایا، جیسے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم نے جھٹلایا، ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کی تکذیب کی، عاد نے ہود علیہ السلام کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے لوط علیہ السلام کو اور اصحاب ایکہ نے شعیب علیہ السلام کو جھوٹا سمجھا۔ زمانہ اسلام سے قبل یمن کے ہر بادشاہ کو (تبع) کہا جاتا تھا، چنانچہ تبع کی قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ نہیں فرمایا کہ وہ رسول کون تھا اور اسے کس (تبع) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا؟ کیونکہ… واللہ اعلم… وہ رسول عربوں میں مشہور اور معروف تھا اور عرب میں پیش آنے والے واقعات ان سے چھپے ہوئے نہ تھے، خاص طور پر اس قسم کے عظیم حادثے سے وہ بے خبر نہیں رہ سکتے تھے۔ پس ان تمام قوموں نے ان رسولوں کو جھٹلایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ پس اس پاداش میں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی وعید اور اس کی سزا واجب ہو گئی۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والو! تم ان گزری ہوئی قوموں سے بہتر ہو نہ گزرے ہوئے رسول تمھارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر ہیں۔ اس لیے ان کے جرم سے بچو ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: كذَّب الذين من قبلهم من الأمم رُسُلَهم الكرام وأنبياءَهم العظام؛ كنوح كذَّبه قومه، وثمود كذَّبوا صالحاً، وعاد كذَّبوا هوداً، وإخوان لوطٍ كذَّبوا لوطاً، وأصحابُ الأيكةِ كذَّبوا شعيباً، وقوم تُبَّعٍ - وتُبَّعٌ كل ملكٍ مَلَكَ اليمن في الزمان السابق قبل الإسلام - فقوم تُبَّع كذَّبوا الرسول الذي أرسله الله إليهم، ولم يخبرْنا اللهُ من هو ذلك الرسولُ، وأيُّ تُبَّعٍ من التَّبابعة؛ لأنه - والله أعلم - كان مشهوراً عند العرب العرباء ، الذين لا تخفى ماجرياتهم على العرب، خصوصاً مثل هذه الحادثة العظيمة؛ فهؤلاء كلُّهم كذَّبوا الرُّسل الذين أرسلهم الله إليهم، فحقَّ عليهم وعيدُ الله وعقوبته، ولستم أيُّها المكذِّبون لمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - خيراً منهم، ولا رسلهم أكرم على الله من رسولكم؛ فاحذروا جرمهم؛ لئلاَّ يصيبكم ما أصابهم.