ترجمہ و تفسیر — سورۃ ق (50) — آیت 12

کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ اَصۡحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ۱۲﴾
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور کنویں والوں نے اور ثمود نے۔ En
ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں
En
ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں نے اور ﺛمود نے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12تا14) ➊ { كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ …:} یعنی یہ آپ کو جھٹلانے والے پہلے لوگ نہیں جنھوں نے ہمارے کسی رسول کو جھٹلایا ہو، بلکہ اس سے پہلے کئی اقوام نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہمارے عذاب کا نشانہ بنے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والوں کے لیے تنبیہ ہے۔ آیت میں مذکور اکثر اقوام کا ذکر متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔ اصحاب الرس کا ذکر سورۂ فرقان (۳۸) میں، اصحاب الایکہ کا ذکر سورۂ حجر (۷۸) اور سورئہ شعراء (۱۷۶) میں اور قوم تبع کا ذکر سورۂ دخان (۳۷) میں دیکھیے۔
➋ { كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ:} ان سب قوموں نے تمام رسولوں کو جھٹلا دیا، کیونکہ یہ سب نہ اپنی طرح کے کسی انسان کو رسول ماننے کے لیے تیار تھے اور نہ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کو۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کو تمام رسولوں کو جھٹلانے والا قرار دیا۔
➌ { فَحَقَّ وَعِيْدِ: وَعِيْدِ } اصل میں {وَعِيْدِيْ} ہے۔ آیات کے فواصل کی مطابقت کے لیے یاء کو حذف کر دیا، دال پر کسرہ یاء کے حذف ہونے کی دلیل ہے، ورنہ {حَقَّ} کا فاعل ہونے کی وجہ سے { وَعِيْدِ } کے دال پر ضمہ ہونا چاہیے تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 اصحاب الرس کی تعیین میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ امام ابن جریر طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے جس میں انہیں اصحاب اخدود قرار دیا گیا ہے، جس کا ذکر سورة بروج میں ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ابن کثیر و فتح القدیر، (وَّعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًــۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا) 25۔ الفرقان:38)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ ان لوگوں سے پہلے قوم نوح، کنوئیں والے اور ثمود نے جھٹلایا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شامت اعمال ٭٭
اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (‏‏‏‏علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔
سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔
جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105]‏‏‏‏ ’ قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا ‘ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔
پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔
جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [30-الروم:27]‏‏‏‏ یعنی ’ ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے ‘۔
سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-يس:79-78]‏‏‏‏ ’ یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ ‘
صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔ }

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے بھی اپنے انبیائے عظام اور مرسلین کرام کو جھٹلایا، جیسے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم نے جھٹلایا، ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کی تکذیب کی، عاد نے ہود علیہ السلام کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے لوط علیہ السلام کو اور اصحاب ایکہ نے شعیب علیہ السلام کو جھوٹا سمجھا۔ زمانہ اسلام سے قبل یمن کے ہر بادشاہ کو (تبع) کہا جاتا تھا، چنانچہ تبع کی قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ نہیں فرمایا کہ وہ رسول کون تھا اور اسے کس (تبع) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا؟ کیونکہ… واللہ اعلم… وہ رسول عربوں میں مشہور اور معروف تھا اور عرب میں پیش آنے والے واقعات ان سے چھپے ہوئے نہ تھے، خاص طور پر اس قسم کے عظیم حادثے سے وہ بے خبر نہیں رہ سکتے تھے۔ پس ان تمام قوموں نے ان رسولوں کو جھٹلایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ پس اس پاداش میں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی وعید اور اس کی سزا واجب ہو گئی۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والو! تم ان گزری ہوئی قوموں سے بہتر ہو نہ گزرے ہوئے رسول تمھارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر ہیں۔ اس لیے ان کے جرم سے بچو ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: كذَّب الذين من قبلهم من الأمم رُسُلَهم الكرام وأنبياءَهم العظام؛ كنوح كذَّبه قومه، وثمود كذَّبوا صالحاً، وعاد كذَّبوا هوداً، وإخوان لوطٍ كذَّبوا لوطاً، وأصحابُ الأيكةِ كذَّبوا شعيباً، وقوم تُبَّعٍ - وتُبَّعٌ كل ملكٍ مَلَكَ اليمن في الزمان السابق قبل الإسلام - فقوم تُبَّع كذَّبوا الرسول الذي أرسله الله إليهم، ولم يخبرْنا اللهُ من هو ذلك الرسولُ، وأيُّ تُبَّعٍ من التَّبابعة؛ لأنه - والله أعلم - كان مشهوراً عند العرب العرباء ، الذين لا تخفى ماجرياتهم على العرب، خصوصاً مثل هذه الحادثة العظيمة؛ فهؤلاء كلُّهم كذَّبوا الرُّسل الذين أرسلهم الله إليهم، فحقَّ عليهم وعيدُ الله وعقوبته، ولستم أيُّها المكذِّبون لمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - خيراً منهم، ولا رسلهم أكرم على الله من رسولكم؛ فاحذروا جرمهم؛ لئلاَّ يصيبكم ما أصابهم.