ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے، جب کہ وہ متقی بنے اور ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، پھر وہ متقی بنے اور ایمان لائے، پھر وہ متقی بنے اور انھوں نے نیکی کی اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
En
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکے جب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کیے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکو کاری کی اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے
ایسے لوگوں پر جو کہ ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناه نہیں جس کو وه کھاتے پیتے ہوں جبکہ وه لوگ تقویٰ رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں پھر پرہیزگاری کرتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں پھر پرہیزگاری کرتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں، اللہ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب شراب کی تحریم، ممانعت کی تاکید اور اس کی بابت سخت حکم نازل ہوا تو بہت سے اہل ایمان کی خواہش تھی کہ انھیں اپنے ان مومن بھائیوں کے بارے میں معلوم ہو جو حالت اسلام میں فوت ہوئے اور شراب کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿لَ٘یْسَعَلَىالَّذِیْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِجُنَاحٌ ﴾”جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں۔“ یعنی ان پر گناہ اور حرج نہیں ہے ﴿ فِیْمَاطَعِمُوْۤا﴾”اس میں جو کچھ پہلے کھا چکے“ یعنی شراب اور جوئے کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے۔ چونکہ نفی حرج مذکورہ اشیا وغیرہ کو شامل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کو مقید فرمایا ﴿ اِذَامَااتَّقَوْاوَّاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾”جبکہ وہ آئندہ کو ڈر گئے اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے“ یعنی اس شرط کے ساتھ کہ وہ گناہوں کو ترک کریں اللہ تعالیٰ پر ایسا صحیح ایمان رکھیں جو عمل صالح کا موجب ہوتا ہے، پھر اس پر ہمیشہ قائم رہیں .... ورنہ بندہ کبھی اس صفت سے متصف ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ یہ ایمان اس وقت تک کافی نہیں جب تک کہ اس پر دوام نہ ہو اور اسی حالت میں اس کو موت نہ آئے۔ نیز نیک اعمال پر اس کا دوام ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اچھے طریقے سے اپنے خالق کی عبادت کرنے والے نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے اور وہ بندوں کو نفع پہنچانے کو پسند کرتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں وہ شخص بھی شامل ہے جو تحریم کے نازل ہونے کے بعد کوئی حرام کردہ چیز کھاتا ہے یا کسی حرام فعل کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے توبہ کرلیتا، تقویٰ اختیار کرلیتا ہے اور نیک کام کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اور اس بارے میں اس کے گناہ کا بوجھ ہٹا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما نزل تحريم الخمر والنهي الأكيد والتشديد فيه؛ تمنَّى أناس من المؤمنين أن يعلموا حال إخوانهم الذين ماتوا على الإسلام قبل تحريم الخمر وهم يشربونها، فأنزل الله هذه الآية، وأخبر تعالى أنه {ليس على الذينَ آمنوا وعَمِلوا الصالحات جُناحٌ}؛ أي: حرج وإثم {فيما طَعِموا}: من الخمر والميسر قبل تحريمهما. ولما كان نفي الجُناح يشمل المذكورات وغيرها؛ قُيِّد ذلك بقوله: {إذا ما اتَّقَوا وآمنوا وعملوا الصالحات}؛ أي: بشرط أنَّهم تاركون للمعاصي مؤمنون بالله إيماناً صحيحاً موجباً لهم عمل الصالحات، ثم استمرُّوا على ذلك، وإلاَّ؛ فقد يتَّصف العبد بذلك في وقت دون آخر، فلا يكفي حتى يكون كذلك، حتى يأتيه أجله ويدوم على إحسانه؛ فإن الله يحبُّ المحسنين في عبادة الخالق المحسنين في نفع العبيد. ويدخل في هذه الآية الكريمة مَنْ طَعِمَ المحرَّم أو فعل غيره بعد التحريم ثم اعترف بذنبه، وتاب إلى الله، واتَّقى، وآمن وعمل صالحاً؛ فإنَّ الله يغفر له، ويرتفع عنه الإثم في ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔