اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور بچ جاؤ، پھر اگر تم پھر جائو تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمے تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔
En
اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے
اور تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو۔ اگر اعراض کرو گے تو یہ جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ایک ہی چیز کا نام ہے جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے اور جو کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ یہ اطاعت اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی تعمیل کی جائے، یعنی ظاہری و باطنی اعمال و اقوال، حقوق اللہ اور حقوق مخلوق سے متعلق واجب اور مستحب اعمال بجا لائے جائیں۔ اور اس امر کو متضمن ہے کہ ان امور سے اجتناب کیا جائے جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم ایک عام حکم ہے جو تمام احکام کو شامل ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس میں تمام اوامر و نواہی اور ظاہر و باطن شامل ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَاحْذَرُوْا﴾”اور ڈرتے رہو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی سے بچو کیونکہ یہ نافرمانی شر اور واضح خسارے کی موجب ہے ﴿ فَاِنْتَوَلَّیْتُمْ﴾”پس اگر تم اعراض کرو“ یعنی جس چیز کا تمھیں حکم دیا گیا اور جس چیز سے تمھیں روکا گیا ہے اگر تم اس کی تعمیل کرنے سے گریز کرو ﴿ فَاعْلَمُوْۤااَنَّمَاعَلٰىرَسُوْلِنَاالْ٘بَلٰ٘غُ٘الْمُبِیْنُ﴾”تو جان لو کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے“ اور اس نے یہ فریضہ ادا کر دیا ہے۔ اگر تم راہ راست اختیار کرتے ہو تو اس کا فائدہ تمھارے لیے ہے اور اگر تم برائیوں کا ارتکاب کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمھارا محاسبہ کرے گا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ جو کچھ تھا وہ انھوں نے پہنچا دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
طاعةُ الله وطاعةُ رسوله واحدة؛ فمن أطاع الله؛ فقد أطاع الرسول، ومن أطاع الرسول؛ فقد أطاع الله، وذلك شامل للقيام بما أمر الله به ورسوله من الأعمال والأقوال الظَّاهرة والباطنة، الواجبة والمستحبَّة، المتعلقة بحقوق الله وحقوق خلقه، والانتهاء عما نهى الله ورسوله عنه كذلك، وهذا الأمر أعمُّ الأوامر؛ فإنه كما ترى يدخُلُ فيه كلُّ أمرٍ ونهيٍ ظاهرٍ وباطنٍ. وقوله: {واحْذَروا}؛ أي: من معصية الله ومعصية رسوله؛ فإنَّ في ذلك الشر والخسران المبين. {فإنْ تَوَلَّيْتُم}: عما أمرتم به ونهيتم عنه، {فاعلموا أنَّما على رسولِنا البلاغُ المُبين}: وقد أدَّى ذلك؛ فإن اهتديتم؛ فلأنفسكم، وإن أسأتُم؛ فعليها، والله هو الذي يحاسبُكم، والرسولُ قد أدَّى ما عليه، وما حُمِّل به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔