بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی بنے اور صابی اور نصاریٰ، جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
En
جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے
مسلمان، یہودی، ستاره پرست اور نصرانی کوئی ہو، جو بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے وه محض بےخوف رہے گا اور بالکل بے غم ہوجائے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل قرآن، اہل تورات اور اہل انجیل کے بارے میں بیان فرماتا ہے کہ ان سب کی سعادت اور نجات ایک ہی طریقے اور ایک ہی اصول میں ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا..، لہٰذا ان میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اسی کے لیے نجات ہے ان کو کوئی خوف نہ ہو گا، انھیں خوف زدہ کرنے والے امور کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اور وہ امور جو وہ پیچھے چھوڑ چکے ہیں ان کے بارے میں غمگین نہ ہوں گے... یہ حکم مذکور تمام زمانوں کو شامل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن أهل الكتاب من أهل القرآن والتوراة والإنجيل أنَّ سعادتهم ونجاتهم في طريق واحد وأصل واحدٍ، وهو الإيمان بالله واليوم الآخر والعمل الصالح؛ فمن آمَنَ منهم بالله واليوم الآخر وعَمِلَ صالحاً؛ فله النجاة ولا خوفٌ عليهم فيما يستقبِلونه من الأمور المخوفة ولا هم يحزنونَ على ما خلفوا منها. وهذا الحكم المذكور يشمَلُ سائر الأزمنة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔