کہہ دے اے اہل کتاب! تم کسی چیز پر نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل کو قائم کرو اور اس کو جو تمھارے رب کی جانب سے تمھاری طرف نازل کیا گیا اور یقینا جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور بڑھا دے گا، سو تو کافر لوگوں پرغم نہ کر۔
En
کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو
آپ کہہ دیجیئے کہ اے اہل کتاب! تم دراصل کسی چیز پر نہیں جب تک کہ تورات وانجیل کو اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی سے طرف اتارا گیا ہے قائم نہ کرو، جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے اترا ہے وه ان میں سے بہتوں کو شرارت اور انکار میں اور بھی بڑھائے گا ہی، تو آپ ان کافروں پر غمگین نہ ہوں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اہل کتاب کی گمراہی کی منادی اور ان کے باطل کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ لَسْتُمْعَلٰىشَیْءٍ ﴾”تم کسی چیز پر نہیں ہو“ یعنی تم کسی بھی دینی اصول پر قائم نہیں ہو۔ تم قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہو نہ تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کی تصدیق کی ہے، تم نے حق کو تھاما ہے نہ کسی اصول پر تمھارا اعتماد ہے ﴿ حَتّٰىتُقِیْمُواالتَّوْرٰىةَوَالْاِنْجِیْلَ ﴾”جب تک تم تورات اور انجیل کو قائم نہ رکھو گے۔“ یعنی جب تک کہ تم تورات اور انجیل پر ایمان لا کر ان کو قائم نہ کرو، ان کی اتباع نہ کرو اور جن امور کی طرف یہ دعوت دیتی ہیں ان میں سے ہر چیز کو مضبوطی سے تھام نہ لو۔ اور جب تک کہ تم اس چیز کو قائم نہ کرو ﴿ وَمَاۤاُنْزِلَاِلَیْكُمْمِّنْرَّبِّكُمْ﴾”جو تم پر تمھارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے“ جس نے تمھاری تربیت کی اور تمھیں نعمتوں سے نوازا۔ تم پر اس کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ تمھاری طرف کتابیں نازل فرمائیں۔ پس تم پر فرض ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہو، اس کے احکام کا التزام کرو اور اللہ تعالیٰ کی امانت اور اس کے عہد کی جو ذمہ داری، تم پر ڈالی گئی ہے، اسے پورا کرو۔
﴿ وَلَیَ٘زِیْدَنَّكَثِیْرًامِّؔنْهُمْمَّاۤاُنْزِلَاِلَیْكَمِنْرَّبِّكَطُغْیَانًاوَّكُفْرًا١ۚفَلَاتَاْسَعَلَىالْقَوْمِالْ٘كٰفِرِیْنَ﴾”جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے، اس سے ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ ہو گا اس لیے آپ کافروں کے گروہ پر متاسف نہ ہوں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قل لأهل الكتاب منادياً على ضلالهم ومعلناً بباطلهم: {لستُم على شيء}: من الأمور الدينيَّة؛ فإنَّكم لا بالقرآن ومحمد آمنتم، ولا بنبيِّكم وكتابكم صدَّقتم، ولا بحقٍّ تمسَّكتم، ولا على أصل اعتمدتم. {حتَّى تُقيموا التوراة والإنجيل}؛ أي: تجعلوهما قائِمَيْن بالإيمان بهما واتِّباعهما والتمسُّك بكلِّ ما يَدْعُوان إليه، {و} تقيموا {ما أُنزِلَ إليكم من ربِّكم}، الذي ربَّاكم، وأنعم عليكم، وجَعَلَ أجَلَّ إنعامِهِ إنزال الكُتُب إليكم؛ فالواجب عليكم أن تقوموا بشكر الله، وتلتزِموا أحكام الله، وتقوموا بما حُمِّلِتُم من أمانة الله وعهده، {وليزيدنَّ كثيراً منهم ما أُنزل إليك من ربِّك طغياناً وكفراً فلا تأسَ على القوم الكافرين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔