تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 66

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ لَاَکَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِہِمۡ ؕ مِنۡہُمۡ اُمَّۃٌ مُّقۡتَصِدَۃٌ ؕ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ سَآءَ مَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۶۶﴾
اور اگر وہ تورات اور انجیل کی پابندی کرتے اور اس کی جو ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے تو یقینا وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پائوں کے نیچے سے کھاتے۔ ان میں سے ایک جماعت درمیانے راستے والی ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ، برا ہے جو کر رہے ہیں۔ En
اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں
En
اور اگر یہ لوگ تورات وانجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے، ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے، ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے، باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ اگر وہ قائم کرتے تورات، انجیل اور اس کو جو نازل کیا گیا ان پر، ان کے رب کی طرف سے یعنی اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توجہ دلائی اور ان کو ترغیب دی ہے۔ تورات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان امور پر ایمان لانا ہے جن کی طرف یہ دونوں کتابیں دعوت دیتی ہیں، یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان لانا۔
اگر وہ اس عظیم نعمت کو قائم کرتے جس کو ان کے رب نے ان کی طرف نازل فرمایا ہے یعنی ان کی خاطر اور ان کے ساتھ اعتنا کی بنا پر اس نعمت کو ان کی طرف نازل کیا ہے ﴿ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا، آسمان سے ان پر بارش برساتا اور زمین ان کے لیے فصلیں اگاتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْ٘قُ٘رٰۤى اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَؔكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ (الاعراف: 7؍96) اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔
﴿ مِنْهُمْ ان میں سے یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ایک گروہ ہے سیدھی راہ پر یعنی ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تورات و انجیل پر عامل ہے مگر اس کا عمل قوی اور نشاط انگیز نہیں ہے ﴿ وَؔكَثِیْرٌ مِّؔنْهُمْ سَآءَؔ مَا یَعْمَلُوْنَ اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں۔ یعنی ان میں برائیوں کا ارتکاب کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے بہت کم ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولو أنَّهم أقاموا التوراة والإنجيل وما أُنزِلَ إليهم من ربِّهم}؛ أي: قاموا بأوامرهما [ونواهيهما] كما ندبهم الله وحثهم، ومن إقامتهما الإيمان بما دعيا إليه من الإيمان بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - وبالقرآن؛ فلو قاموا بهذه النعمة العظيمة التي أنزلها ربُّهم إليهم؛ أي: لأجلهم وللاعتناء بهم؛ {لأكلوا من فوقِهم ومن تحتِ أرجلِهم}؛ أي: لأدرَّ الله عليهم الرزقَ ولأمطر عليهم السماء وأنبتَ لهم الأرضَ؛ كما قال تعالى: {ولو أن أهل القرى آمنوا واتَّقَوا لَفَتَحْنا عليهم بَرَكاتٍ من السَّماء والأرض}. {منهم}؛ أي: من أهل الكتاب {أمةٌ مقتصدةٌ}؛ أي: عاملة بالتوراة والإنجيل عملاً غير قويٍّ ولا نشيط. {وكثيرٌ منهم ساء ما يعملونَ}؛ أي: والمسيء منهم الكثير، وأما السابقون منهم؛ فقليل ما هم.