تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوْاَنَّاَهْلَالْكِتٰبِاٰمَنُوْاوَاتَّقَوْالَكَ٘ـفَّرْنَاعَنْهُمْسَیِّاٰتِهِمْوَلَاَدْخَلْنٰهُمْ۠جَنّٰتِالنَّعِیْمِ﴾”اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے“ یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {ولو أن أهل الكتاب آمنوا واتَّقَوا لكفَّرنا عنهم سيئاتِهِم ولأدخلناهُم جناتِ النعيم}: وهذا من كرمِهِ وجودِهِ؛ حيث ذكر قبائح أهل الكتاب ومعايبهم وأقوالهم الباطلة؛ دعاهم إلى التوبة، وأنهم لو آمنوا بالله وملائكته وجميع كتبه وجميع رسله واتَّقوا المعاصي؛ لكفَّر عنهم سيئاتهم، ولو كانت ما كانت، ولأدخلهم جنات النعيم التي فيها ما تشتهيه الأنفس، وتلذُّ الأعين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔