تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 65

وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَکَفَّرۡنَا عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاَدۡخَلۡنٰہُمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۶۵﴾
اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور ڈرتے تو ہم ضرور ان سے ان کے گناہ دور کر دیتے اور انھیں ضرور نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔ En
اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کر دیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے
En
اور اگر یہ اہل کتاب ایمان ﻻتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی تمام برائیاں معاف فرما دیتے اور ضرور انہیں راحت و آرام کی جنتوں میں لے جاتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَ٘ـفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ۠ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال تعالى: {ولو أن أهل الكتاب آمنوا واتَّقَوا لكفَّرنا عنهم سيئاتِهِم ولأدخلناهُم جناتِ النعيم}: وهذا من كرمِهِ وجودِهِ؛ حيث ذكر قبائح أهل الكتاب ومعايبهم وأقوالهم الباطلة؛ دعاهم إلى التوبة، وأنهم لو آمنوا بالله وملائكته وجميع كتبه وجميع رسله واتَّقوا المعاصي؛ لكفَّر عنهم سيئاتهم، ولو كانت ما كانت، ولأدخلهم جنات النعيم التي فيها ما تشتهيه الأنفس، وتلذُّ الأعين.