پس تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں ایک بیماری ہے کہ وہ دوڑ کر ان میں جاتے ہیں، کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ہمیں کوئی چکر آ پہنچے، تو قریب ہے کہ اللہ فتح لے آئے، یا اپنے پاس سے کوئی اور معاملہ تو وہ اس پر جو انھوں نے اپنے دلوں میں چھپایا تھا، پشیمان ہو جائیں۔
En
تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے سو قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے
آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے وه دوڑ دوڑ کر ان میں گھس رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خطره ہے، ایسا نہ ہو کہ کوئی حادﺛہ ہم پر پڑ جائے بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ فتح دے دے۔ یا اپنے پاس سے کوئی اور چیز ﻻئے پھر تو یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر (بے طرح) نادم ہونے لگیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو اہل کتاب سے دوستی رکھنے سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک گروہ ان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے۔ ﴿ فَتَرَىالَّذِیْنَفِیْقُ٘لُوْبِهِمْمَّرَضٌ ﴾”پس آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں روگ ہے“ یعنی ان کے دلوں میں شک، نفاق اور ضعف ایمان ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے ضرورت کے تحت ان کو دوست بنایا ہے اس لیے کہ ﴿ نَخْشٰۤىاَنْتُصِیْبَنَادَآىِٕرَةٌ﴾”ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے“ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گردش ایام یہود و نصاریٰ کے حق میں نہ ہو جائے اور اگر زمانے کی گردش ان کے حق میں ہو تو ہمارا ان پر یہ احسان انھیں اس بدلے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر آمادہ کرے گا۔ یہ اسلام کے بارے میں ان کی انتہائی بدظنی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی بدظنی کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ فَعَسَىاللّٰهُاَنْیَّاْتِیَبِالْ٘فَ٘تْحِ ﴾”ہو سکتا ہے اللہ فتح عطا کرے“ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ پر غالب کر دے ﴿ اَوْاَمْرٍمِّنْعِنْدِهٖ ﴾”یا کوئی حکم اپنے پاس سے“ جس سے منافقین، یہود وغیرہ کفار کے کامیاب ہونے سے مایوس ہو جائیں۔ ﴿ فَیُصْبِحُوْاعَلٰىمَاۤاَسَرُّوْا ﴾”پس ہوجائیں وہ اس پر جو کچھ وہ چھپاتے ہیں “﴿ فِیْۤاَنْفُسِهِمْنٰدِمِیْنَ﴾”اپنے نفسوں میں نادم ہوں “ یعنی اس رویے پر جس کا اظہار ان کی طرف سے ہوا اور جس نے انھیں نقصان پہنچایا اور کوئی نفع انھیں حاصل نہ ہوا۔ پس مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو نصرت سے نوازا اور کفر اور کفار کو ذلیل کیا۔ پس ان کو ندامت اٹھانی پڑی اور انھیں ایسے غم کا سامنا کرنا پڑا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما نهى الله المؤمنين عن تولِّيهم؛ أخبرَ أنَّ ممَّن يدَّعي الإيمان طائفة تواليهم فقال: {فترى الذين في قلوبهم مرضٌ}؛ أي: شكٌّ ونفاقٌ وضعفُ إيمان يقولون: إنَّ تولِّينا إيَّاهم للحاجة؛ فإننا {نخشى أن تصيبنا دائرة}؛ أي: تكون الدائرة لليهود والنصارى؛ فإذا كانت الدائرة لهم؛ فإذاً لنا معهم يدٌ يكافِئونا عنها، وهذا سوء ظنِّ منهم بالإسلام. قال تعالى رادًّا لظنِّهم السيئ: {فعسى الله أن يأتي بالفتح}: الذي يُعِزُّ الله به الإسلام على اليهود والنصارى، ويقهرهم المسلمون، {أو أمرٍ من عندِهِ}: ييأسُ به المنافقون من ظَفَرِ الكافرين من اليهود وغيرهم، {فيصبِحوا على ما أسرُّوا}؛ أي: أضمروا {في أنفسِهِم نادمين}: على ما كان منهم، وضَرَّهم بلا نفع حَصَلَ لهم، فحصل الفتحُ الذي نصر الله به الإسلام والمسلمين، وأذلَّ به الكفر والكافرين، فندموا وحصل لهم من الغمِّ ما الله به عليم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔