تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[94۔ 1]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حضرت عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فرمایا ”لوگو! تمہیں اس سے بچنا چاہیئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ“، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1156/4:حسن]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لیے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں؟
«وَيَقُولُ» تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ «يَقُولُ» تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی «يَقُوْلَ» ہے تو یہ «فَعَسَى» پر عطف ہو گا گویا «وَاَنْ يَقُوْلَ» ہے اہلِ مدینہ کے نزدیک۔
ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ عبادہ بن صامت نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑ جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا }، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12162:مرسل و ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ ”جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بے بہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتا دیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12163:مرسل و ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنے لگا اور عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیتیں «فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ» ۱؎ [5-المائدہ:56] تک اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12164]
مسند احمد میں ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے تو تجھے بارہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا } } تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مر گیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3094،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما نهى الله المؤمنين عن تولِّيهم؛ أخبرَ أنَّ ممَّن يدَّعي الإيمان طائفة تواليهم فقال: {فترى الذين في قلوبهم مرضٌ}؛ أي: شكٌّ ونفاقٌ وضعفُ إيمان يقولون: إنَّ تولِّينا إيَّاهم للحاجة؛ فإننا {نخشى أن تصيبنا دائرة}؛ أي: تكون الدائرة لليهود والنصارى؛ فإذا كانت الدائرة لهم؛ فإذاً لنا معهم يدٌ يكافِئونا عنها، وهذا سوء ظنِّ منهم بالإسلام. قال تعالى رادًّا لظنِّهم السيئ: {فعسى الله أن يأتي بالفتح}: الذي يُعِزُّ الله به الإسلام على اليهود والنصارى، ويقهرهم المسلمون، {أو أمرٍ من عندِهِ}: ييأسُ به المنافقون من ظَفَرِ الكافرين من اليهود وغيرهم، {فيصبِحوا على ما أسرُّوا}؛ أي: أضمروا {في أنفسِهِم نادمين}: على ما كان منهم، وضَرَّهم بلا نفع حَصَلَ لهم، فحصل الفتحُ الذي نصر الله به الإسلام والمسلمين، وأذلَّ به الكفر والكافرين، فندموا وحصل لهم من الغمِّ ما الله به عليم.