اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ بات کرنے میں اس کے لیے آواز اونچی کرو، تمھارے بعض کے بعض کے لیے آواز اونچی کرنے کی طرح، ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔
En
اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو
اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَاٰمَنُوْالَاتَرْفَعُوْۤااَصْوَاتَكُمْفَوْقَصَوْتِالنَّبِیِّوَلَاتَجْهَرُوْالَهٗبِالْقَوْلِ﴾ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہونے میں آپ کا ادب ہے،یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہونے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو آپ سے بلند کرے نہ اونچی آواز میں آپ سے گفتگو کرے، بلکہ اپنے لہجے کو پست رکھے، آپ سے نہایت ادب و ملائمت، تعظیم و تکریم اور اجلال و اعظام کے ساتھ بات کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی فرد جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے آپ سے مخاطب ہونے میں آپ کے امتیاز کا خاص خیال رکھیں۔ جیسا کہ آپ اپنی امت پر اپنے حقوق، آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے میں امتیاز رکھتے ہیں، جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان آداب کا لحاظ نہ رکھنے سے ڈر ہے کہ کہیں بندے کا عمل اکارت نہ جائے اور اسے شعور تک نہ ہو، جس طرح آپ کا ادب حصول ثواب اور قبولیت اعمال کا سبب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتَكُم فوقَ صوتِ النبيِّ ولا تَجْهَروا له بالقولِ}: وهذا أدب مع الرسول - صلى الله عليه وسلم - في خطابه؛ أي: لا يرفع المخاطِبُ له صوتَهُ معه فوق صوتِهِ، ولا يجهرْ له بالقول، بل يغضُّ الصوتَ ويخاطبُه بأدبٍ ولينٍ وتعظيم وتكريم وإجلال وإعظام، ولا يكون الرسول كأحدهم، بل يميِّزونه في خطابهم كما تميَّز عن غيرِه في وجوبِ حقِّه على الأمَّة، ووجوب الإيمان به، والحبِّ الذي لا يتمُّ الإيمانُ إلا به؛ فإن في عدم القيام بذلك محذوراً وخشية أن يحبط عملُ العبد وهو لا يشعر؛ كما أن الأدب معه من أسباب حصول الثواب وقبول الأعمال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔