تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجرات (49) — آیت 1

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
مومنو! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اس کے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے
En
اے ایمان والے لوگو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا عمومی حکم دیا ہے۔ اور تقویٰ کا معنی طلق بن حبیب کے قول کے مطابق، یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ثواب کے عطا ہونے کی امید رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے نور کی روشنی میں اس کی معصیت کو ترک کر دیں۔
﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات اور تمام مخفی مقامات وجہات میں تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿ عَلِیْمٌ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظواہر اور بواطن، گزرے ہوئے اور آنے والے امور، تمام واجبات مستحیلات اور ممکنات کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی ممانعت اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد، ان دو اسمائے کریمہ کا ذکر کرنے میں، ان مذکورہ اوامر حسنہ اور آداب مستحسنہ کی تعمیل کی ترغیب اور ان کے منافی امور کو اختیار کرنے پر ترہیب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أمر الله بتقواه عموماً، وهي كما قال طَلْق بن حبيب: أن تعملَ بطاعة الله على نور من الله ترجو ثواب الله، وأن تترك معصية الله على نور من الله تخشى عقاب الله. وقوله: {إنَّ الله سميعٌ}؛ أي: لجميع الأصوات، في جميع الأوقات، في خفيِّ المواضع والجهات، {عليمٌ}: بالظواهر والبواطن، والسوابق واللواحق، والواجبات والمستحيلات والجائزات. وفي ذكر الاسمين الكريمين بعد النهيِ عن التقدّم بين يدي الله ورسوله والأمر بتقواه حثٌّ على امتثال تلك الأوامر الحسنة والآداب المستحسنة وترهيبٌ عن ضدِّه.