وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی، تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایمان میں زیادہ ہو جائیں اور آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
En
وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے۔ اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں، اور آسمانوں اور زمین کے ﴿کل﴾ لشکر اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ دانا باحکمت ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکینت نازل کی۔ سکینت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کر دینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ ان مصائب کا سامنا کر سکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لیے مستعد رہے، پس اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل ہو۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کے مابین، صلح کی یہ شرائط طے ہوئیں، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بظاہر ذلت آمیز اور ان کے مرتبے سے فرو تر تھیں، تو ان شرائط پر ان کے نفوس صبر کرنے کی قوت نہیں پا رہے تھے۔ پس جب انھوں نے ان شرائط کو صبر کے ساتھ قبول کر لیا اور اپنے نفوس کو ان کی قبولیت پر آمادہ کر لیا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِجُنُوْدُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کے تمام لشکر، اس کی ملکیت اور اس کے دست تدبیر اور قہر کے تحت ہیں، اس لیے مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور نبی کی مدد نہیں کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے، بنابریں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان گردش ایام ہوتی رہے اور اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کسی دوسرے موقع تک مؤخر رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن منَّته على المؤمنين بإنزال السكينة في قلوبهم، وهي السكونُ والطمأنينةُ والثباتُ عند نزول المحنِ المقلقةِ والأمور الصعبة التي تشوِّشُ القلوبَ وتزعجُ الألباب وتضعِفُ النفوس؛ فمن نعمة الله على عبده في هذه الحال أن يثبِّتَه ويربطَ على قلبه، وينزِلَ عليه السكينةَ، ليتلقَّى هذه المشقَّاتِ بقلبٍ ثابتٍ ونفس مطمئنةٍ، فيستعدَّ بذلك لإقامة أمر الله في هذه الحال، فيزداد بذلك إيمانُه، ويتمَّ إيقانُه. فالصحابةُ رضي الله عنهم لمَّا جرى ما جرى بينَ رسول اللهِ - صلى الله عليه وسلم - والمشركين من تلك الشروطِ التي ظاهرُها أنَّها غضاضةٌ عليهم وحطٌّ من أقدارِهم، وتلك لا تكادُ تصبِرُ عليها النفوس، فلما صبروا عليها ووطَّنوا أنفسَهم لها؛ ازدادوا بذلك إيماناً مع إيمانهم. وقوله: {ولله جنودُ السمواتِ والأرضِ}؛ أي: جميعها في ملكه وتحت تدبيره وقهره؛ فلا يظنُّ المشركون أنَّ الله لا ينصُرُ دينَه ونبيَّه، ولكنَّه تعالى عليمٌ حكيمٌ، فتقتضي حكمته المداولةَ بين الناس في الأيام وتأخيرَ نصر المؤمنين إلى وقتٍ آخر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔