تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لِيَزْدَادُوْۤا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِهِمْ:} یعنی ایمان انھیں پہلے بھی حاصل تھا مگر ان تمام آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کی وجہ سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا چلاگیا اور جب اس ثابت قدمی کے خوش گوار نتائج سامنے آئے تو ان کا ایمان مزید بڑھ گیا۔ یہ آیت بھی ان بہت سی آیات و احادیث میں سے ایک ہے جو ایمان میں زیادتی اور کمی کی دلیل ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے متعدد آیات و احادیث کے ساتھ اس مسئلے کو مدلل ذکر فرمایا ہے۔ روح المعانی میں ہے: ”بخاری نے فرمایا، میں بہت سے شہروں میں ایک ہزار سے زائد علماء سے ملا، میں نے ان میں سے ایک شخص بھی نہیں دیکھا جو اس بات سے اختلاف کرتا ہو کہ ایمان قول اور عمل ہے اور اس میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے اور انھوں نے اس کی عقلی اور نقلی دلیلیں بیان کی ہیں۔ عقلی دلیل تو یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت میں تفاوت نہ ہو تو امت کے عام آدمیوں کا ایمان، جو فسق و فجور میں منہمک رہتے ہیں، انبیاء کے ایمان کے برابر ہو گا اور یہ لازم باطل ہے، سو ملزوم بھی ایسا ہی ہے اور نقلی دلیل یہ کہ اس مفہوم کی آیات و احادیث بہت زیادہ ہیں جن میں سے ایک یہ آیت ہے جو زیر تفسیر ہے۔“ (ملخصاً) یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان میں زیادتی کا مطلب اعمال کے لحاظ سے زیادتی ہی نہیں بلکہ دل کی تصدیق اور اس کے یقین میں بھی زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔ کبھی یقین کا یہ حال ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جان، مال اور ہر چیز اللہ کی راہ میں لٹانے پر تیار ہو جاتا ہے اور کبھی اس یقین میں ایسی کمی ہوتی ہے کہ اسلام قبول کرتے وقت ایمان کا جو سرمایہ اسے حاصل ہوا تھا وہ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ تعجب اور افسوس ہے ان بڑے بڑے شیوخ الحدیث پر جو اتنی صریح آیات و احادیث کے باوجود یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے، ان کے علم کا کمال یہی ہے کہ وہ تاویل کے ذریعے سے ثابت کر دیتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا ایمان برابر ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے دھڑے کے کسی بزرگ نے کہہ دیا ہے کہ ایمان میں نہ زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔
➌ { وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} یعنی آپ کو ظاہری اسباب کی کمی کے باوجود یہ فتح مبین آپ کی جد و جہد یا ذاتی کمال کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی بدولت حاصل ہوئی، کیونکہ وہی آسمانوں کے اور زمین کے بے شمار لشکروں کا مالک ہے، جس کی چاہتا ہے جس لشکر کے ساتھ چاہتا ہے مدد کر دیتا ہے۔ آسمانوں کے لشکروں کی مثال بدر میں نازل ہونے والے فرشتے، احزاب میں آنے والی آندھی اور بدر میں اترنے والی بارش ہیں اور زمین کے لشکروں کی مثال فتح مکہ کے موقع پر آنے والے دس ہزار مجاہدین کا عظیم الشان لشکر ہے۔ {” لِلّٰهِ “} کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب ہوا کہ اللہ تعالیٰ مانتا ہی نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں اس کے علاوہ بھی کسی کے پاس کوئی لشکر ہے، کیونکہ اس کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔
➍ { وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًا:} یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے لشکروں کا اکیلا مالک ہے اور لشکر بھی ایسے کہ ان میں سے کسی لشکر کا ایک فرد اگر اللہ کا حکم ہو تو تمام کفار کو نیست و نابود کر دے، مگر اس نے یہ فتح مبین اور نصر عزیز صلح کی صورت میں عطا فرمائی، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ اس کے علم میں یہ بات تھی اور اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ اب کفار کو تلوار کی مار کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے اور ان کی دعوت سننے کا موقع دیا جائے، تاکہ کافر مسلمان ہو جائیں اور دشمن دوست بن جائیں۔ واضح رہے، یہاں {” عَلِيْمًا حَكِيْمًا “} فرمایا ہے، جبکہ آگے جہاںکفار و منافقین کے لیے عذاب اور لعنت کا ذکر فرمایا ہے وہاں {” عَزِيْزًا حَكِيْمًا “} فرمایا ہے، کیونکہ عذاب و غضب کے ذکر کے مناسب صفت علم کے بجائے صفت عزیز ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بے نشان کر دینے کے لیے بس کافی تھا، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آ جائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے۔
پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ صحابہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ ’ مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے ‘ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے، انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگزر کر دے، بخش دے، پردہ ڈال دے، رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے، دراصل یہی اصل کامیابی ہے۔
جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ۱؎ [3-آلعمران:185] ’ یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا۔ ‘
پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لیے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ دوبارہ اپنی قوت، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن منَّته على المؤمنين بإنزال السكينة في قلوبهم، وهي السكونُ والطمأنينةُ والثباتُ عند نزول المحنِ المقلقةِ والأمور الصعبة التي تشوِّشُ القلوبَ وتزعجُ الألباب وتضعِفُ النفوس؛ فمن نعمة الله على عبده في هذه الحال أن يثبِّتَه ويربطَ على قلبه، وينزِلَ عليه السكينةَ، ليتلقَّى هذه المشقَّاتِ بقلبٍ ثابتٍ ونفس مطمئنةٍ، فيستعدَّ بذلك لإقامة أمر الله في هذه الحال، فيزداد بذلك إيمانُه، ويتمَّ إيقانُه. فالصحابةُ رضي الله عنهم لمَّا جرى ما جرى بينَ رسول اللهِ - صلى الله عليه وسلم - والمشركين من تلك الشروطِ التي ظاهرُها أنَّها غضاضةٌ عليهم وحطٌّ من أقدارِهم، وتلك لا تكادُ تصبِرُ عليها النفوس، فلما صبروا عليها ووطَّنوا أنفسَهم لها؛ ازدادوا بذلك إيماناً مع إيمانهم. وقوله: {ولله جنودُ السمواتِ والأرضِ}؛ أي: جميعها في ملكه وتحت تدبيره وقهره؛ فلا يظنُّ المشركون أنَّ الله لا ينصُرُ دينَه ونبيَّه، ولكنَّه تعالى عليمٌ حكيمٌ، فتقتضي حكمته المداولةَ بين الناس في الأيام وتأخيرَ نصر المؤمنين إلى وقتٍ آخر.