تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفتح (48) — آیت 22

وَ لَوۡ قٰتَلَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوَلَّوُا الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۲۲﴾
اور اگر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تم سے لڑتے تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے، پھر وہ نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔ En
اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو دوست نہ پاتے اور نہ مددگار
En
اور اگر تم سے کافر جنگ کرتے تو یقیناً پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھر نہ تو کوئی کار ساز پاتے نہ مددگار En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے خوشخبری ہے۔ وہ ان کو ان کے دشمن کفار کے خلاف فتح و نصرت عطا کرے گا، اگر ان کفار نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی ﴿ لَوَلَّوُا الْاَدْبَ٘ارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر وہ کوئی دوست نہ پائیں گے۔ جو ان کی سر پرستی کرے ﴿ وَّلَا نَصِیْرًا اور نہ مددگار۔ جو ان کی مدد کرے اور تمھارے خلاف لڑائی میں ان کی اعانت کرے، بلکہ وہ اپنے حال پر تنہا اور مغلوب چھوڑ دیے جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه بشارةٌ من الله لعباده المؤمنين بنصرهم على أعدائهم الكافرين، وأنَّهم لو قابَلوهم وقاتلوهم؛ {لَوَلَّوا الأدبار ثمَّ لا يجدونَ وليًّا}: يتولَّى أمرَهم، {ولا نصيراً}: ينصُرُهم ويعينُهم على قتالكم، بل هم مخذولونَ مغلوبونَ.