تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے خوشخبری ہے۔ وہ ان کو ان کے دشمن کفار کے خلاف فتح و نصرت عطا کرے گا، اگر ان کفار نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی ﴿ لَوَلَّوُاالْاَدْبَ٘ارَثُمَّلَایَجِدُوْنَوَلِیًّا﴾”تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر وہ کوئی دوست نہ پائیں گے۔“ جو ان کی سر پرستی کرے ﴿ وَّلَانَصِیْرًا﴾”اور نہ مددگار۔“ جو ان کی مدد کرے اور تمھارے خلاف لڑائی میں ان کی اعانت کرے، بلکہ وہ اپنے حال پر تنہا اور مغلوب چھوڑ دیے جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه بشارةٌ من الله لعباده المؤمنين بنصرهم على أعدائهم الكافرين، وأنَّهم لو قابَلوهم وقاتلوهم؛ {لَوَلَّوا الأدبار ثمَّ لا يجدونَ وليًّا}: يتولَّى أمرَهم، {ولا نصيراً}: ينصُرُهم ويعينُهم على قتالكم، بل هم مخذولونَ مغلوبونَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔