تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفتح (48) — آیت 21

وَّ اُخۡرٰی لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہَا قَدۡ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرًا ﴿۲۱﴾
اور کئی اور (غنیمتوں کا بھی)، جن پر تم قادر نہیں ہوئے۔ یقینا اللہ نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
اور اَور (غنیمتیں دیں) جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
اور تمہیں اور (غنیمتیں) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے قابو میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّاُخْرٰى اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے یعنی اس خطاب کے وقت۔ ﴿ قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأخرى}؛ أي: وعدكم أيضاً غنيمة أخرى، {لم تقدِروا عليها}: وقت هذا الخطاب، {قد أحاطَ اللهُ بها}؛ أي: هو قادر عليها وتحت تدبيره وملكه، وقد وعَدَكُموها؛ فلا بدَّ من وقوع ما وَعَدَ به؛ لكمال اقتدار الله تعالى، ولهذا قال: {وكان الله على كلِّ شيءٍ قديراً}.