تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَّاُخْرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمْتَقْدِرُوْاعَلَیْهَا﴾”جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے“ یعنی اس خطاب کے وقت۔ ﴿ قَدْاَحَاطَاللّٰهُبِهَا﴾”بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔“ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَكَانَاللّٰهُعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍقَدِیْرًا﴾”اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأخرى}؛ أي: وعدكم أيضاً غنيمة أخرى، {لم تقدِروا عليها}: وقت هذا الخطاب، {قد أحاطَ اللهُ بها}؛ أي: هو قادر عليها وتحت تدبيره وملكه، وقد وعَدَكُموها؛ فلا بدَّ من وقوع ما وَعَدَ به؛ لكمال اقتدار الله تعالى، ولهذا قال: {وكان الله على كلِّ شيءٍ قديراً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔