تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے بڑے امتحان کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَنَبْلُوَنَّـكُمْ﴾ یعنی ہم تمھارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے ﴿ حَتّٰىنَعْلَمَالْمُجٰؔهِدِیْنَمِنْكُمْوَالصّٰؔبِرِیْنَ١ۙوَنَبْلُوَاۡاَخْبَارَؔكُمْ﴾”تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔“ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے، اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ أعظم امتحانٍ يمتحنُ به عبادَه، وهو الجهادُ في سبيل الله، فقال: {ولَنَبْلُوَنَّكم}؛ أي: نختبر إيمانكم وصبركم، {حتى نعلمَ المجاهدين منكم والصابرين ونبلوَ أخبارَكم}: فمن امتثل أمر الله وجاهدَ في سبيل الله بنصر دينِهِ وإعلاءِ كلمتِهِ؛ فهو المؤمن حقًّا، ومن تكاسل عن ذلك؛ كان ذلك نقصاً في إيمانه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔