تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 31

وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ حَتّٰی نَعۡلَمَ الۡمُجٰہِدِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ الصّٰبِرِیۡنَ ۙ وَ نَبۡلُوَا۠ اَخۡبَارَکُمۡ ﴿۳۱﴾
اور ہم ضرور ہی تمھیں آزمائیں گے،یہاں تک کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمھارے حالات جانچ لیں۔ En
اور ہم تو لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ان کو معلوم کریں۔ اور تمہارے حالات جانچ لیں
En
یقیناً ہم تمہارا امتحان کریں گے تاکہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو ﻇاہر کر دیں اور ہم تمہاری حالتوں کی بھی جانچ کر لیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے بڑے امتحان کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَنَبْلُوَنَّـكُمْ یعنی ہم تمھارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے ﴿ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰؔهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰؔبِرِیْنَ١ۙ وَنَبْلُوَاۡ اَخْبَارَؔكُمْ تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے، اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذَكَرَ أعظم امتحانٍ يمتحنُ به عبادَه، وهو الجهادُ في سبيل الله، فقال: {ولَنَبْلُوَنَّكم}؛ أي: نختبر إيمانكم وصبركم، {حتى نعلمَ المجاهدين منكم والصابرين ونبلوَ أخبارَكم}: فمن امتثل أمر الله وجاهدَ في سبيل الله بنصر دينِهِ وإعلاءِ كلمتِهِ؛ فهو المؤمن حقًّا، ومن تكاسل عن ذلك؛ كان ذلك نقصاً في إيمانه.