تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 30

وَ لَوۡ نَشَآءُ لَاَرَیۡنٰکَہُمۡ فَلَعَرَفۡتَہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ ؕ وَ لَتَعۡرِفَنَّہُمۡ فِیۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اَعۡمَالَکُمۡ ﴿۳۰﴾
اور اگر ہم چاہیں تو ضرور تجھے وہ لوگ دکھادیں، پھر یقینا تو انھیں ان کی نشانی سے پہچان لے گا اور تو انھیں بات کے انداز سے ضرور ہی پہچان لے گا اور اللہ تمھارے اعمال جانتا ہے۔ En
اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔ اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے! اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے
En
اور اگر ہم چاہتے تو ان سب کو تجھے دکھا دیتے پس تو انہیں ان کے چہرے سے ہی پہچان لیتا، اور یقیناً تو انہیں ان کی بات کے ڈھب سے پہچان لے گا، تمہارے سب کام اللہ کو معلوم ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰـكَ٘هُمْ۠ فَلَ٘عَرَفْتَهُمْ۠ بِسِیْمٰىهُمْ اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور آپ انھیں ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔ یعنی ان کی ان علامات کے ذریعے سے آپ ان کو پہچان لیں گے جو گویا ان کے چہروں پر مرقوم ہیں ﴿ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ اور یقیناً آپ انھیں ان کی بات کے انداز سے پہچان لیں گے۔ یعنی یہ ایک لازمی امر ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر اور ان کی زبان کی لغزش سے واضح ہو کر رہے گا کیونکہ زبان دل کی نقیب ہوتی ہے جو خیر اور شر دل میں ہوتا ہے اسے زبان ظاہر کر دیتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ اور اللہ تمھارے اعمال سے واقف ہے۔ پس وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

مع أنَّه تعالى قال: {لو نشاء لأرَيْناكَهم فلَعَرَفْتَهم بسيماهم}؛ أي: بعلاماتهم التي هي كالرسم في وجوههم، {ولتعرِفَنَّهم في لحنِ القول}؛ أي: لا بدَّ أن يظهرَ ما في قلوبهم ويتبيَّن بفلتاتِ ألسنتهم؛ فإنَّ الألسنَ مغارفُ القلوب، يظهر فيها ما في القلوب من الخير والشرِّ، {والله يعلمُ أعمالَكم}: فيجازيكم عليها.