اور جس دن وہ لوگ جنھوںنے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، کیا یہ حق نہیں ہے؟ کہیں گے کیوں نہیں، ہمارے رب کی قسم! وہ کہے گا پھر چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔
En
اور جس روز آگ کے سامنے کئے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو
وه لوگ جنہوں نے کفر کیا جس دن جہنم کے سامنے ﻻئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (حق ہے) (اللہ) فرمائے گا، اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزه چکھو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جہنم کے سامنے پیش کیے جانے پر، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے، کفار کی جوحالت ہوگی،اللہ تعالی اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ ان کو زجروتوبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَ٘یْسَهٰؔذَابِالْحَقِّ١ؕقَالُوْابَلٰىوَرَبِّنَا﴾”کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے، کیوں نہیں ہمارے رب!“ پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے اور ان کا جھوٹ واضح ہو جائے گا۔ ﴿ قَالَفَذُوْقُواالْعَذَابَبِمَاكُنْتُمْتَكْ٘فُرُوْنَ﴾”اللہ فرمائے گا: اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو“ یعنی ہمیشہ چمٹے رہنے والے عذاب کا مزا چکھو، جس طرح کفر تمھاری دائمی اور لازمی صفت تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن حال الكفار الفظيعة عند عرضِهِم على النار التي كانوا يكذِّبون بها، وأنَّهم يوبَّخون ويُقال لهم: {أليس هذا بالحقِّ}؛ فقد حضرتُموه وشاهدتُموه عياناً، {قالوا بلى وربِّنا}: فاعترفوا بذنوبهم وتبين كذبهم، {قال فَذُوقُوا العَذابَ بما كنتُم تكفُرون}؛ أي: عذاباً لازماً دائماً كما كان كفرُكم صفةً لازمةً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔