تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 33

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ لَمۡ یَعۡیَ بِخَلۡقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یُّحۡیَِۧ الۡمَوۡتٰی ؕ بَلٰۤی اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۳﴾
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟ کیوں نہیں! یقینا وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ En
کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں۔ وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے
En
کیا وه نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے وه نہ تھکا، وه یقیناً مُردوں کو زنده کرنے پر قادر ہے؟ کیوں نہ ہو؟ وه یقیناً ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالی کی طرف سے مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر ایسے امر کے ذریعے سے استدلال ہے جو اس سے زیادہ بلیغ ہے،یعنی وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کی عظمت ان کی وسعت اور ان کی تخلیق میں مہارت کے باوصف، کسی مشقت کے بغیر تخلیق کیا اور ان کو تخلیق کرتے ہوئے وہ تھکی نہیں، تو تمھارے مرنے کے بعد تمھاری زندگی کا اعادہ اسے کیسے عاجز کر سکتا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا استدلالٌ منه تعالى على الإعادة بعد الموت بما هو أبلغُ منها، وهو {أنَّه الذي خلقَ السماواتِ والأرضَ} على عظمهما وسعتهما وإتقان خلقهما من دون أن يَكْتَرِثَ بذلك، ولم يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ؛ فكيف تعجِزُه إعادتُكم بعد موتكم وهو {على كل شيءٍ قديرٌ}؟!