یہی وہ لوگ ہیں کہ ہم ان سے وہ سب سے اچھے عمل قبول کرتے ہیں جو انھوں نے کیے اور ان کی برائیوں سے در گزر کرتے ہیں، جنت والوں میں، سچے وعدے کے مطابق جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
En
یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرمائیں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے) ۔ (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے
یہی وه لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بداعمال سے درگزر کر لیتے ہیں، (یہ) جنتی لوگوں میں ہیں۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا تھا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اُولٰٓىِٕكَ﴾ وہ لوگ جن کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں ﴿ الَّذِیْنَنَتَقَبَّلُعَنْهُمْاَحْسَنَمَاعَمِلُوْا﴾”یہی وہ ہیں، جن کے نیک اعمال ہم قبول کریں گے۔“ اس سے مراد نیکیاں ہیں، وہ اس کے علاوہ بھی نیک عمل کرتے ہیں۔ ﴿ وَنَتَجَاوَزُعَنْسَیِّاٰتِهِمْفِیْۤاَصْحٰؔبِالْجَنَّةِ﴾”اور ان کے گناہوں سے تجاوز فرمائیں گے (یہی) اہل جنت میں ہوں گے۔“ یعنی جملہ اہل جنت کے ساتھ، سو ان کو بھلائی اور مطلوب محبوب حاصل ہو گا، شر اور ناپسندیدہ امور زائل ہو جائیں گے ﴿ وَعْدَالصِّدْقِالَّذِیْكَانُوْایُوْعَدُوْنَ﴾ یعنی یہ وعدہ جو ہم نے ان کے ساتھ کیا تھا، سب سے زیادہ سچی ہستی کا وعدہ ہے، جو کبھی وعدے کے خلاف نہیں کرتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أولئك}: الذين ذكرت أوصافهم {الذين نتقبَّلُ عنهم أحسنَ ما عملوا}: وهو الطاعاتُ؛ لأنَّهم يعملون أيضاً غيرها، {ونتجاوزُ عن سيِّئاتِهم في}: جملة {أصحاب الجنة}: فحصل لهم الخيرُ والمحبوبُ، وزال عنهم الشرُّ والمكروه. {وعدَ الصِّدْقِ الذي كانوا يوعدونَ}؛ أي: هذا الوعدُ الذي وعَدْناهم هو وعدٌ صادقٌ من أصدق القائلين الذي لا يُخلف الميعادَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔