تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 14

اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
یہ لوگ جنت والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہنے والے، اس کے بدلے کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ (یہ) اس کا بدلہ (ہے) جو وہ کیا کرتے تھے
En
یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وه کیا کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یعنی وہ اہل جنت اور اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں جہاں سے وہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا چاہیں گے ﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی اللہ تعالی پر ایمان جو ان اعمال صالحہ کا مقتضی تھا جن پر یہ ہمیشہ قائم رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك أصحابُ الجنَّة}؛ أي: أهلها الملازمون لها، الذين لا يبغون عنها حِوَلاً ولا يريدونَ بها بدلاً، {خالدين فيها جزاءً بما كانوا يعملونَ}: من الإيمان بالله، المقتضي للأعمال الصالحة، التي استقاموا عليها.