تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 13

اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۱۳﴾
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ En
جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
En
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی وہ لوگ جو اپنے رب کا اقرار کرتے ہیں، اس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں، اس کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں اور اس پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں ﴿ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا عمر بھر استقامت سے کام لیتے ہیں ﴿ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ تو آنے والے کسی شر سے ان کے لیے خوف نہیں ﴿ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ اور نہ انھیں اس چیز پر حزن و غم ہے جو وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: إنَّ الذين أقرُّوا بربِّهم، وشهدوا له بالوحدانيَّة، والتزموا طاعته، وداموا على ذلك، و {استقاموا} مدَّة حياتهم؛ {فلا خوفٌ عليهم}: من كل شرٍّ أمامهم، {ولا هم يحزنونَ}: على ما خلَّفوا وراءهم.