تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۘ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِیۡنَ ﴿۷﴾
آسمانوں اور زمین اور ان چیزوں کا رب جو ان دونوں کے درمیان ہیں، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ En
آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگ یقین کرنے والے ہو
En
جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِیْ٘نَ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ربِّ السموات والأرض وما بينهما}؛ أي: خالق ذلك ومدبِّره والمتصرِّف فيه بما يشاء، {إن كنتُم موقِنين}؛ أي: عالمين بذلك علماً مفيداً لليقين؛ فاعْلموا أنَّ الربَّ للمخلوقات هو إلهها الحقُّ، ولهذا قال: {لا إله إلاَّ هو}؛ أي: لا معبود إلاَّ وجهه، {يحيي ويميتُ}؛ أي: هو المتصرِّف وحده بالإحياء والإماتة، وسيجمعكم بعد موتكم فيَجْزيكم بعَمَلِكم، إن خيراً فخيرٌ، وإن شرًّا فشرٌّ. {ربُّكم وربُّ آبائكم الأوَّلين}؛ أي: ربُّ الأوَّلين والآخرين؛ مربِّيهم بالنعم، الدافع عنهم النقم.