(آیت 7){ رَبِّالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِوَمَابَيْنَهُمَا …:} پچھلی آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب تھا۔ کفارِ مکہ یہ اقرار کرتے تھے کہ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اب ان سے دوبارہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمھیں اس بات کا یقین ہے کہ کائنات میں موجود ساری مخلوق کی ربوبیت اور پرورش کی ذمہ دار صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو پھر تمھیں یہ بھی یقین کر لینا چاہیے کہ یہ رسول فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی نے تمھاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے، کیونکہ وہ صرف تمھاری جسمانی پرورش ہی کا ذمہ دار نہیں بلکہ تمھاری روحانی پرورش اور تمھیں سیدھا راستہ بتانا بھی اسی کے ذمے ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ وہ آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے سب چیزوں کا مالک ہے، اگر تم واقعی یقین [5] کرنے والے ہو
[5] یعنی اگر تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ کائنات میں موجود ساری مخلوق کی ربوبیت عامہ کی ذمہ داری صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو پھر تمہیں یہ بھی یقین کر لینا چاہئے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الواقع اللہ تعالیٰ نے ہی تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔ کیونکہ وہ صرف تمہاری جسمانی تربیت کا ہی ذمہ دار نہیں بلکہ تمہاری روحانی تربیت اور تمہیں ہدایت کی راہ بتانا بھی اس کے ذمہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿رَبِّالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِوَمَابَیْنَهُمَا ﴾”جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔“ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنْكُنْتُمْمُّوْقِنِیْنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤاِلٰهَاِلَّاهُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿یُحْیٖوَیُمِیْتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمْوَرَبُّاٰبَآىِٕكُمُالْاَوَّلِیْ٘نَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ربِّ السموات والأرض وما بينهما}؛ أي: خالق ذلك ومدبِّره والمتصرِّف فيه بما يشاء، {إن كنتُم موقِنين}؛ أي: عالمين بذلك علماً مفيداً لليقين؛ فاعْلموا أنَّ الربَّ للمخلوقات هو إلهها الحقُّ، ولهذا قال: {لا إله إلاَّ هو}؛ أي: لا معبود إلاَّ وجهه، {يحيي ويميتُ}؛ أي: هو المتصرِّف وحده بالإحياء والإماتة، وسيجمعكم بعد موتكم فيَجْزيكم بعَمَلِكم، إن خيراً فخيرٌ، وإن شرًّا فشرٌّ. {ربُّكم وربُّ آبائكم الأوَّلين}؛ أي: ربُّ الأوَّلين والآخرين؛ مربِّيهم بالنعم، الدافع عنهم النقم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔