تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 41

یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ مَوۡلًی عَنۡ مَّوۡلًی شَیۡئًا وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ En
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی
En
اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس دن کوئی رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار کے کام آئے گا اور نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام آئے گا﴿وَّلَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ اور نہ انھیں کہیں سے کوئی مدد ملے گی۔ نہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچایا جا سکے گا کیونکہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لا ينفع {مولى عن مولى شيئاً}: لا قريب عن قريبه، ولا صديق عن صديقه، {ولا هم يُنصَرونَ}؛ أي: يمنعون من عذاب الله عزَّ وجلَّ؛ لأنَّ أحداً من الخلق لا يملك من الأمر شيئاً.