(آیت 41) ➊ { يَوْمَلَايُغْنِيْمَوْلًىعَنْمَّوْلًىشَيْـًٔا: ”مَوْلًى“} کا معنی دوست بھی ہے، قریبی رشتہ دار بھی، غلام بھی اور غلام کا مالک بھی۔ یعنی قیامت کے دن کوئی شخص کسی ایسے شخص کے کام نہیں آ سکے گا جس سے اس کی دوستی یا رشتہ داری یا اس کی حمایت حاصل کرنے کا کوئی تعلق ہو۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۱۰۱) اور سورۂ معارج (۱۰، ۱۱)۔ ➋ { وَلَاهُمْيُنْصَرُوْنَ:} اور نہ کسی اور طرف سے مدد مل سکے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ جس دن کوئی دوست اپنے دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ہی انہیں کہیں سے مدد ملے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس دن کوئی رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار کے کام آئے گا اور نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام آئے گا﴿وَّلَاهُمْیُنْصَرُوْنَ﴾”اور نہ انھیں کہیں سے کوئی مدد ملے گی۔“ نہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچایا جا سکے گا کیونکہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لا ينفع {مولى عن مولى شيئاً}: لا قريب عن قريبه، ولا صديق عن صديقه، {ولا هم يُنصَرونَ}؛ أي: يمنعون من عذاب الله عزَّ وجلَّ؛ لأنَّ أحداً من الخلق لا يملك من الأمر شيئاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔