تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 30

وَ لَقَدۡ نَجَّیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ ﴿ۙ۳۰﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی۔ En
اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی
En
اور بےشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِ اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنْ فِرْعَوْنَ فرعون سے کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الْ٘مُسْرِفِیْنَ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم امتنَّ تعالى على بني إسرائيلَ، فقال: {ولقد نَجَّيْنا بني إسرائيلَ من العذابِ المهينِ}: الذي كانوا فيه {من فرعونَ}: إذ يذبحُ أبناءَهم ويستحيي نساءَهم، {إنَّه كان عالياً}؛ أي: مستكبراً في الأرض بغير الحقِّ، {من المسرفين}: المتجاوزين لحدودِ الله المتجرِّئين على محارمه.