تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَمَابَكَتْعَلَیْهِمُالسَّمَآءُوَالْاَرْضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَاكَانُوْامُنْظَرِیْنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فما بكتْ عليهم السماءُ والأرضُ}؛ أي: لمَّا أتلفهم الله وأهلكهم لم تبكِ عليهم السماء والأرض؛ أي: لم يُحزنْ عليهم ولم يُؤس على فراقهم، بل كلٌّ استبشر بهلاكِهِم وتلفِهِم، حتى السماء والأرض؛ لأنَّهم ما خَلَّفوا من آثارِهم إلاَّ ما يسوِّدُ وجوهَهم ويوجبُ عليهم اللعنةَ والمقتَ من العالمين. {وما كانوا مُنظَرين}؛ أي: ممهَلين عن العقوبة، بل اصطلمتْهم في الحال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔