تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے فرمایا: ﴿فَاصْفَ٘حْعَنْهُمْوَقُ٘لْسَلٰ٘مٌ ﴾ ان کی طرف سے آپ کو جو قولی اور فعلی اذیت پہنچتی ہے اس پر ان سے درگزر کیجیے اور ان کو معاف کر دیجیے۔ آپ کی طرف سے ان کے لیے سلام ہی ہونا چاہیے، جس کے ذریعے سے عقل مند اور اہل بصیرت جاہلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرمایا: ﴿وَّاِذَاخَاطَبَهُمُالْجٰهِلُوْنَ ﴾ (الفرقان:25؍63) ”جب ان سے جہلاء مخاطب ہوتے ہیں“ یعنی ایسا خطاب جو ان کی جہالت کے تقاضے پر مبنی ہوتا ہے۔ ﴿قَالُوْاسَلٰمًا ﴾ (الفرقان: 25؍63) ”تو ان کو کہہ دیتے ہیں: تمھیں سلام ہو۔“
پس رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور آپ کی قوم نے آپ کو جو اذیتیں دیں ان کا عفوودرگزر کے ساتھ سامنا کیا اور آپ ان کے ساتھ صرف حسن سلوک اور حسن کلام سے پیش آئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس مقدس ہستی پر جسے اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم سے مختص فرمایا اور اس کے ذریعے سے زمین و آسمان کے رہنے والوں کو فضیلت بخشی اور آپ اس خلق عظیم کے ذریعے سے ستاروں سے زیادہ بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَسَوْفَیَعْلَمُوْنَ ﴾ تو عنقریب انھیں اپنے گناہوں اور جرائم کا انجام معلوم ہو جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {فاصفحْ عنهم وقُلْ سلامٌ}؛ أي: اصفح عنهم ما يأتيك من أذيَّتِهِمْ القوليَّة والفعليَّة، واعفُ عنهم، ولا يبدر منك لهم إلاَّ السلامُ الذي يقابِل به أولو الألباب والبصائر للجاهلين؛ كما قال تعالى عن عباده الصالحين: {وإذا خاطَبَهُمُ الجاهلونَ}؛ أي: خطاباً بمقتضى جهلهم، {قالوا سلاماً}. فامتثل - صلى الله عليه وسلم - لأمر ربِّه، وتلقَّى ما يصدُرُ إليه من قومِهِ وغيرهم من الأذى بالعفو والصفح، ولم يقابِلْهم عليه السلام إلاَّ بالإحسان إليهم والخطاب الجميل؛ فصلوات الله وسلامُه على مَن خصه الله بالخُلُق العظيم الذي فَضَلَ به أهلَ الأرض والسماء، وارتفعَ به أعلى من كواكبِ الجوزاءِ، وقوله: {فسوفَ يَعلمونَ}؛ أي: غِبَّ ذُنوبهم وعاقبةَ جُرمهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔