تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقِیْلِهٖ٘یٰرَبِّاِنَّهٰۤؤُلَآءِقَوْمٌلَّایُؤْمِنُوْنَ﴾”اور پیغمبر کا یہ کہنا کہ اے میرے رب! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔“ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَعِنْدَهٗعِلْمُالسَّاعَةِ ﴾ (الزخرف:43؍85)”اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے۔“ پر معطوف ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کی تکذیب کے وقت، اپنے رب کے پاس شکوہ کرتے ہوئے، نہایت حزن و غم اور اپنی قوم کے عدم ایمان پر نہایت حسرت کے ساتھ دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس حال کا علم رکھتا ہے اور ان کو فوراً سزا دینے پر قادر ہے، مگر وہ نہایت بردبار ہے۔ وہ اپنے بندوں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقيله ياربِّ إنَّ هؤلاء قومٌ لا يؤمنون}: هذا معطوف على قولِهِ: {وعندهُ علمُ الساعةِ}؛ أي: وعنده علم قيلِهِ؛ أي: الرسول - صلى الله عليه وسلم - شاكياً لربِّهِ تكذيب قومِهِ، متحزِّناً على ذلك، متحسِّراً على عدم إيمانهم؛ فالله تعالى عالمٌ بهذه الحال، قادرٌ على معاجلتهم بالعقوبة، ولكنه تعالى حليمٌ، يمهلُ العباد، ويستأني بهم لعلَّهم يتوبون ويرجِعون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔