تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 73

لَکُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیۡرَۃٌ مِّنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۳﴾
تمھارے لیے اس میں بہت سے میوے ہیں، جن سے تم کھاتے ہو۔ En
وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے
En
یہاں تمہارے لیے بکثرت میوے ہیں جنہیں تم کھاتے رہو گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِیْهِمَا مِنْ كُ٘لِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰؔنِ (الرحمن:55؍52) ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔ ﴿مِّؔنْهَا تَاْكُلُوْنَ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لكم فيها فاكهةٌ كثيرةٌ}؛ كما في الآية الأخرى: {فيهما من كلِّ فاكهةٍ زوجانِ}، {منها تأكلونَ}؛ أي: مما تتخيَّرون من تلك الفواكه الشهيَّة والثمار اللذَّيذة تأكلون.