تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 72

وَ تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۲﴾
اور یہی وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، اس کی وجہ سے جو تم عمل کرتے تھے۔ En
اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے
En
یہی وه بہشت ہے کہ تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنائے گئے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَتِلْكَ الْؔجَنَّةُ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ جس کے تم مالک بنا دیے گئے، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وتلك الجنَّة}: الموصوفة بأكمل الصفات هي {التي أورِثْتُموها بما كُنتُم تعملونَ}؛ أي: أورثكم الله إيَّاها بأعمالكم، وجعلها من فضلِهِ جزاء لها، وأودع فيها من رحمتِهِ ما أودعَ.