تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 61

وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱﴾
اور بلاشبہ وہ یقینا قیامت کی ایک نشانی ہے تو تم اس میں ہرگز شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو، یہ سیدھاراستہ ہے۔ En
اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو۔ یہی سیدھا رستہ ہے
En
اور یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے پس تم (قیامت) کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو، یہی سیدھی راه ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوْنِ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ یہی سیدھا راستہ ہے۔جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنَّه لَعِلْمٌ للساعة}؛ أي: وإنَّ عيسى عليه السلام لدليلٌ على الساعة، وأنَّ القادر على إيجادِهِ من أمٍّ بلا أبٍ قادرٌ على بعثِ الموتى من قبورِهم، أو: وإنَّ عيسى عليه السلام سينزلُ في آخر الزمان ويكونُ نزولُه علامةً من علامات الساعة، {فلا تَمْتَرُنَّ بها}؛ أي: لا تشكُّنَّ في قيام الساعة؛ فإنَّ الشكَّ فيها كفر، {واتَّبعونِ}: بامتثال ما أمرتُكم واجتنابِ ما نهيتُكم، {هذا صراطٌ مستقيمٌ}: موصلٌ إلى الله عزَّ وجلَّ.