تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 60

وَ لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الۡاَرۡضِ یَخۡلُفُوۡنَ ﴿۶۰﴾
اور اگر ہم چاہیں تو ضرور تمھارے عوض فرشتے بنا دیں، جو زمین میں جانشین ہوں۔ En
اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے
En
اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کردیتے جو زمین میں جانشینی کرتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓىِٕكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال تعالى: {ولو نشاءُ لَجَعَلْنا منكم ملائكةً في الأرض يخلُفون}؛ أي: لجعلنا بَدَلَكم ملائكةً يخلُفونكم في الأرض، ويكونون في الأرض حتى نرسل إليهم ملائكةً من جنسهم، وأما أنتم يا معشرَ البشر؛ فلا تطيقونَ أن ترسل إليكم الملائكةُ؛ فمن رحمة الله بكم أن أرسلَ إليكم رُسُلاً من جنسكم تتمكَّنون من الأخذ عنهم.