تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 42

اَوۡ نُرِیَنَّکَ الَّذِیۡ وَعَدۡنٰہُمۡ فَاِنَّا عَلَیۡہِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴿۴۲﴾
یا ہم واقعی تجھے وہ ( عذاب) دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو بے شک ہم ان پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔ En
یا (تمہاری زندگی ہی میں) تمہیں وہ (عذاب) دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں
En
یا جو کچھ ان سے وعده کیا ہے وه تجھے دکھا دیں ہم ان پر بھی قدرت رکھتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ یا تمھیں دکھا دیں (وہ عذاب) جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ﴿فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔ مگر اس عذاب کی تعجیل و تاخیر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے پر موقوف ہے۔یہ ہے آپ کا حال اور ان مکذبین کا حال۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أو نُرِيَنَّكَ الذي وَعَدْناهم}: من العذاب، {فإنَّا عليهم مقتدرونَ}: ولكن ذلك متوقِّف على اقتضاءِ الحكمة لتعجيلِهِ أو تأخيرِهِ؛ فهذه حالك وحالُ هؤلاء المكذِّبين.