تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 41

فَاِمَّا نَذۡہَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنۡہُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
پس اگر کبھی ہم تجھے لے ہی جائیں تو بے شک ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں۔ En
اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے
En
پس اگر ہم تجھے یہاں سے لے بھی جائیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اب ان لوگوں کے لیے عذاب اور سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور یہ عذاب انھیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا یا آخرت میں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، آپ کو وہ عذاب دکھانے سے پہلے اگر آپ کو اٹھا لیں تو ہماری سچی خبر کی بنا پر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان سے انتقام لیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فهؤلاء لم يبقَ إلاَّ عذابُهم ونَكالُهم إمَّا في الدُّنيا أو في الآخرة، ولهذا قال تعالى: {فإمَّا نَذْهَبَنَّ بك فإنَّا منهم منتَقِمونَ}؛ أي: فإنْ ذهَبْنا بك قبل أن نُرِيَكَ ما نعِدُهم من العذابِ؛ فاعلمْ بخبرنا الصادق أنَّا منهم منتقمون.