تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 37

وَ اِنَّہُمۡ لَیَصُدُّوۡنَہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اور بے شک وہ ضرور انھیں اصل راستے سے روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بے شک وہ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں ۔ En
اور یہ (شیطان) ان کو رستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے رستے پر ہیں
En
اور وه انہیں راه سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ یعنی وہ انھیں صراط مستقیم اور دین قویم سے روکتے ہیں ﴿وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ شیطان کے باطل کو مزین کرنے، اسے خوبصورت بناکر پیش کرنے اور اپنےاعراض کے باعث وہ اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں۔ پس دونوں برائیاں اکٹھی ہو گئیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ آیا اس شخص کے لیے کوئی عذر ہے جو اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتا ہے، حالانکہ وہ ہدایت یافتہ نہیں ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ اس شخص اور اس قسم کے دیگر لوگوں کے لیے کوئی عذر نہیں، جن کی جہالت کا مصدر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی ہے، حالانکہ وہ ہدایت حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے قدرت رکھنے کے باوجود ہدایت سے منہ موڑا اور باطل کی طرف راغب ہوئے، اس لیے یہ گناہ ان کا گناہ اور یہ جرم ان کا جرم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنَّهم لَيَصُدُّونهم عن السبيل}؛ أي: الصراط المستقيم والدين القويم، {ويحسَبون أنَّهم مهتدونَ}: بسبب تزيين الشيطانِ للباطل وتحسينِهِ له وإعراضِهِم عن الحقِّ، فاجتمع هذا وهذا. فإن قيل: فهل لهذا من عذرٍ من حيث إنَّه ظنَّ أنَّه مهتدٍ وليس كذلك؟ قيل: لا عذر لهذا وأمثاله الذين مصدرُ جهلهم الإعراضُ عن ذكرِ الله مع تمكُّنهم على الاهتداء، فزهدوا في الهدى مع القدرة عليه، ورغِبوا في الباطل؛ فالذنبُ ذنبُهم والجرم جرمُهم.