تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 36

وَ مَنۡ یَّعۡشُ عَنۡ ذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَیِّضۡ لَہٗ شَیۡطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیۡنٌ ﴿۳۶﴾
اور جو شخص رحمن کی نصیحت سے اندھا بن جائے ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں، پھر وہ اس کے ساتھ رہنے والا ہوتا ہے۔ En
اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے
En
اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے سخت سزا کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَمَنْ یَّعْشُ یعنی جو منہ موڑتا ہے ﴿عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ رحمان کے ذکر سے جو قرآن عظیم ہے جو سب سے بڑی رحمت ہے جس کے ذریعے سے اللہ رحمان نے اپنے بندوں پر رحم کیا ہے۔ جو کوئی اس کو قبول کرے وہ بہترین عطیے کو قبول کرتا ہے اور وہ سب سے بڑے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور جو کوئی اس رحمت سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دے، وہ خائب و خاسر ہوتا ہے، اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے سعادت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ایک سرکش شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کے ساتھ رہتا ہے، وہ اس کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتا ہے، اسے امیدیں دلاتا ہے اور اسے گناہوں پر ابھارتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن عقوبَتهِ البليغةِ بمن أعرضَ عن ذكرِهِ، فقال: {ومن يَعْشُ}؛ أي: يعرِضُ ويصدُّ {عن ذِكْرِ الرحمن}: الذي هو القرآنُ العظيمُ، الذي هو أعظم رحمة رحم بها الرحمن عبادَه؛ فمن قَبِلَها؛ فقد قبل خير المواهب، وفاز بأعظم المطالب والرغائب، ومن أعرض عنها وردَّها؛ فقد خاب وخسِرَ خسارةً لا يسعدُ بعدها أبداً، وقيَّض له الرحمن شيطاناً مريداً يقارِنُه ويصاحِبُه ويعِدُه ويمنِّيه ويؤزُّه إلى المعاصي أزًّا.