تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالُوْا ﴾ یعنی انھوں نے اپنی عقل فاسد کے مطابق اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: ﴿لَوْلَانُزِّلَهٰؔذَاالْ٘قُ٘رْاٰنُعَلٰىرَجُلٍمِّنَالْ٘قَرْیَتَیْنِعَظِیْمٍ﴾”یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل کیوں نہ کیا گیا؟“ جو مکہ اور طائف کے لوگوں کے ہاں معظم اور معزز ہوتا اور وہ شخص ہوتا جو ان کے ہاں سردار شمار ہوتا ہے، مثلاً: ولیدبن مغیرہ وغیرہ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا}: مقترحينَ على الله بعقولهم الفاسدة: {لولا نُزِّلَ هذا القرآنُ على رجل من القريتينِ عظيمٍ}؛ أي: معظَّم عندهم مبجَّل من أهل مكة أو أهل الطائف؛ كالوليد بن المغيرة ونحوه ممَّن هو عندَهم عظيم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔