تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 30

وَ لَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ وَّ اِنَّا بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۰﴾
اور جب ان کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ جادو ہے اور بے شک ہم اس سے منکر ہیں۔ En
اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے
En
اور حق کے پہنچتے ہی یہ بول پڑے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ اور جب ان کے پاس حق پہنچ گیا۔ جو اس شخص پر جس میں ادنیٰ سا دین اور عقل ہے، واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرے۔ ﴿قَالُوْا هٰؔذَا سِحْرٌ وَّاِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ انھوں نے کہا: یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔ اور یہ سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑی مخالفت ہے، پھر انھوں نے مجرد انکار اور روگردانی ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلایا۔ پس وہ اس وقت تک راضی نہ ہوئے جب تک کہ انھوں نے اس میں جرح و قدح نہ کی اور اسے جادو قرار نہ دے دیا، جسے بدترین لوگ اور سب سے بڑے افترا پرداز ہی پیش کرتے ہیں۔اور جس چیز نے ان کو اس رویے پر آمادہ کیا وہ ہے ان کی سرکشی اور اللہ تعالیٰ کا ان کو اور ان کے آباء کو سامان زیست سے نوازنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولمَّا جاءهم الحقُّ}: الذي يوجِبُ على من له أدنى دينٍ ومعقول أن يَقْبَلَه وينقادَ له، {قالوا هذا سحرٌ وإنَّا به كافرونَ}: وهذا من أعظم المعاندة والمشاقَّة؛ فإنَّهم لم يكتفوا بمجرَّد الإعراض عنه، بل ولا جحده، فلم يرضَوْا حتى قدحوا به قدحاً شنيعاً، وجعلوه بمنزلة السحر الباطل الذي لا يأتي به إلاَّ أخبثُ الخلق وأعظمُهم افتراءً، والذي حَمَلَهم على ذلك طغيانُهم بما متَّعهم الله به وآباءهم.