تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 27

اِلَّا الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ فَاِنَّہٗ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿۲۷﴾
سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیا، پس بے شک وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔ En
ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا رستہ دکھائے گا
En
بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ ہاں جس نے مجھے پیدا کیا۔ پس میں اسی کو اپنا سرپرست بناتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ حق کے علم و عمل کے راستے میں میری راہ نمائی فرمائے گا اور جس طرح اس نے مجھے پیدا کیا اور ان امور کے ذریعے سے میری تدبیر کی جو میرے بدن اور میری دنیا کے لیے درست ہیں، اسی طرح ﴿فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ وہ ان امور میں بھی میری راہ نمائی فرمائے گا جو میرے دین اور میری آخرت کے لیے درست ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إلاَّ الذي فَطَرني}؛ فإنِّي أتولاَّه وأرجو أن يَهْدِيَني للعلم بالحقِّ والعمل بالحقِّ؛ فكما فَطَرني ودَبَّرَني بما يُصْلِحُ بدني ودُنياي، فسيهديني لما يُصْلِحُ ديني وآخرتي.