تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 6

وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہُ حَفِیۡظٌ عَلَیۡہِمۡ ۫ۖ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۶﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا کوئی اور کارساز بنا لیے اللہ ان پر نگران ہے اور تو ہرگز ان کا کوئی ذمہ دار نہیں۔ En
اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں۔ اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو
En
اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسروں کو کارساز بنالیا ہے اللہ تعالیٰ ان پر نگران ہے اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِیْنَ اتَّؔخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَؔ اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔
﴿اللّٰهُ حَفِیْؔظٌ عَلَیْهِمْ اللہ ان پر نگران ہے۔ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَؔكِیْلٍ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا عقَّبه بقوله: {والذين اتَّخذوا من دونِهِ أولياءَ}: يتولَّوْنَهم بالعبادة والطاعة؛ كما يعبدون الله ويطيعونَه؛ فإنَّما اتَّخذوا الباطلَ، وليسوا بأولياءٍ على الحقيقة. {اللهُ حفيظٌ عليهم}: يحفظُ عليهم أعمالَهم فيجازيهم بخيرها وشرِّها، {وما أنت عليهم بوكيل}: فتسألُ عن أعمالهم، وإنَّما أنت مبلغٌ أديتَ وظيفتَك.