تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 5

تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِہِنَّ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵﴾
آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیںاور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں، سن لو! بے شک اللہ ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیج کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں۔ سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
قریب ہے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں۔ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف فرمانے واﻻ رحمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کی تفسیر آیت 1 میں تا آیت 6 میں گزر چکی ہے۔