تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 9

قُلۡ اَئِنَّکُمۡ لَتَکۡفُرُوۡنَ بِالَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَ تَجۡعَلُوۡنَ لَہٗۤ اَنۡدَادًا ؕ ذٰلِکَ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۚ﴿۹﴾
کہہ کیا بے شک تم واقعی اس کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے لیے شریک بناتے ہو؟ وہی سب جہانوں کا رب ہے۔ En
کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو۔ وہی تو سارے جہان کا مالک ہے
En
آپ کہہ دیجئے! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو اور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کردی، سارے جہانوں کا پروردگار وہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ہم سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انھیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں ﴿فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِیْ٘نَ چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لیے یکساں ہے۔ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے ٹھیک ٹھیک جواب ہے۔ تجھے یہ خبر ایک خبردار ہستی کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ہے اور یہ ایسی سچی خبر ہے جس میں کوئی کمی ہے نہ بیشی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ينكرُ تعالى ويَعَجّب من كفر الكافرين به، الذين جعلوا معه أنداداً، يُشْرِكونهم معه، ويبذُلون لهم ما يشاؤون من عباداتهم، ويسوُّونهم بالربِّ العظيم الملك الكريم، الذي خلق الأرض الكثيفة العظيمة في يومين، ثم دحاها في يومين؛ بأن جعل فيها رواسيَ من فوقها تُرْسيها عن الزوال والتزلزل وعدم الاستقرارِ؛ فكمَّل خلقها ودحاها وأخرج أقواتها وتوابعَ ذلك {في أربعةِ أيام سواءً للسائلين}: عن ذلك؛ فلا ينبِّئك مثلُ خبير؛ فهذا الخبر الصادق الذي لا زيادة فيه ولا نقص.